Physical Address
Office NO. 3, Floor 1, Arshad Durrani Building, Alamdar Road.
Quetta, Balochistan | 87300
Physical Address
Office NO. 3, Floor 1, Arshad Durrani Building, Alamdar Road.
Quetta, Balochistan | 87300

کوئٹہ (ویب ڈیسک)جمعیت علماء اسلام ضلع کوئٹہ کے امیر شیخ الحدیث مولانا عبدالرحمن رفیق، سیکرٹری جنرل حاجی عین اللہ شمس، سینئر نائب امیر مولانا خورشید احمد اور دیگر رہنماؤں نے سینیٹ اور قومی اسمبلی میں حکومتی وزراء اور درباری ٹولہ کی جانب سے قائدِ جمعیت کے خلاف بازاری زبان کے استعمال اور بے بنیاد الزام تراشیوں کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ حکومتی وزراء نے قائدِ جمعیت کے خلاف بازاری زبان استعمال کرکے اپنی سیاسی تربیت کا عملی مظاہرہ کیا۔ جو نااہل وزراء حکومتی امور چلانے اور عوامی مسائل حل کرنے کی صلاحیت سے محروم ہیں وہ اپنی ناکامیوں اور نااہلی پر پردہ ڈالنے کے لیے غیر سنجیدہ بیانات سیاسی بڑھکوں اور الزام تراشیوں کا سہارا لے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیر داخلہ کو پہلے اپنے ملک کے داخلی حالات امن و امان اور انتظامی مسائل پر توجہ دینی چاہیے اس کے بجائے وہ ایران امریکہ جنگ بندی جیسے بین الاقوامی معاملات میں کردار ادا کرنے کے دعوے کر رہے ہیں۔ جو وزیر اپنے ملک کے حالات پر قابو پانے کے لیے اقدامات نہ کر سکے اسے عالمی سطح کے پیچیدہ معاملات میں کردار ادا کرنے کے دعوے زیب نہیں دیتے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر موصوف کی بلوچستان سے متعلق سابقہ بڑھکیں اور دعوے بھی عوام کے سامنے ہیں۔ ایک وقت تھا جب بلوچستان میں دہشت گردی کو ایک ایس ایچ او کے ذریعے کنٹرول کرنے کے دعوے کیے جا رہے تھے لیکن آج حالات یہ ہیں کہ اپنے ہی بیانات اور دعوؤں کا دفاع کرنا مشکل ہوگیا ہے۔ محض بلند بانگ دعوؤں نمائشی بیانات اور سیاسی شعبدہ بازی سے نہ امن قائم ہوتا ہے اور نہ ہی ریاستی رٹ بحال ہوتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ وزارتِ داخلہ کوئی نمائشی عہدہ نہیں بلکہ ایک انتہائی حساس قومی ذمہ داری ہے جس کے لیے سنجیدگی تدبر انتظامی بصیرت اور عملی صلاحیت درکار ہوتی ہے۔ وزیر موصوف کو عالمی سیاست میں کردار ادا کرنے کے خواب دیکھنے کے بجائے پہلے اپنے ملک کے داخلی بحرانوں بدامنی اور عوام کو درپیش مسائل کا جواب دینا چاہیے۔ سیاست محض بیانات دعوؤں اور اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھنے کا نام نہیں بلکہ یہ عوام کے سامنے جواب دہی اور عملی کارکردگی کا تقاضا کرتی ہے۔