Physical Address
Office NO. 3, Floor 1, Arshad Durrani Building, Alamdar Road.
Quetta, Balochistan | 87300
Physical Address
Office NO. 3, Floor 1, Arshad Durrani Building, Alamdar Road.
Quetta, Balochistan | 87300
کوئٹہ +اسلام آباد(ویب ڈیسک) پاکستان ان خوش قسمت ممالک میں شامل ہے جہاں تقریباً 60 فیصد آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے، جو ملک کا سب سے بڑا اثاثہ اور مستقبل کی امید ہیں۔ نوجوانوں کو معیاری تعلیم، جدید مہارتوں اور عالمی سطح پر مواقع فراہم کرکے پاکستان اور پورے خطے کی ترقی و خوشحالی کو یقینی بنایا جا سکتا ہے۔ ان خیالات کا اظہار سیدال خان ناصر نے یونیورسٹی آف لاہور اور یونیورسٹی آف پلائی ماو ¿تھ، برطانیہ کے درمیان ٹرانس نیشنل ایجوکیشن پارٹنرشپ کے آغاز کی تقریب سے گزشتہ شام قائم مقام چیئرمین سینیٹ کی حیثیت سے بطور مہمانِ خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا۔سیدال خان ناصر نے یونیورسٹی آف لاہور اور یونیورسٹی آف پلائی ماو ¿تھ کو اس اہم شراکت داری پر مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ یہ معاہدہ محض دو تعلیمی اداروں کے درمیان تعاون نہیں بلکہ پاکستان اور برطانیہ کے درمیان علمی و تعلیمی روابط کو مزید مضبوط بنانے کی جانب اہم قدم ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسی شراکت داریاں پاکستانی طلبہ کو عالمی معیار کی تعلیم، بین الاقوامی تجربے اور جدید مہارتوں کے حصول کے بہتر مواقع فراہم کرتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ آج کے نوجوانوں پر سرمایہ کاری دراصل پاکستان کے مستقبل پر سرمایہ کاری ہے۔ نوجوانوں کو جدید تعلیم اور ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ مہارتیں فراہم کرکے نہ صرف ملک کی معیشت کو مضبوط بنایا جا سکتا ہے بلکہ خطے میں ترقی، خوشحالی اور استحکام کی نئی راہیں بھی ہموار کی جا سکتی ہیں۔قائم مقام چیئرمین سینیٹ نے کمپیوٹنگ، سائبر سکیورٹی، مصنوعی ذہانت، بزنس، قانون اور ہیلتھ سائنسز سمیت جدید شعبوں میں تعلیمی پروگرامز کے آغاز کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ شعبے پاکستان کی معاشی اور سماجی ترقی کے لیے انتہائی اہم ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ مصنوعی ذہانت اور دیگر ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کے دور میں نوجوانوں کو مستقبل کی ضروریات کے مطابق تیار کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔انہوں نے یونیورسٹی آف لاہور کے پاکستانی طلبہ کے لیے بین الاقوامی تعلیمی مواقع پیدا کرنے کے وڑن کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی کہ پاکستان اور برطانیہ کے تعلیمی اداروں کے درمیان تعاون کو ڈگری پروگرامز تک محدود رکھنے کے بجائے تحقیق، جدت، فیکلٹی تعاون، کاروباری سرگرمیوں اور طلبہ کے تبادلوں تک وسعت دی جائے گی۔سیدال خان ناصر نے یونیورسٹی آف پلائی ماو ¿تھ کے نمائندگان کو پاکستان آمد پر خوش آمدید کہتے ہوئے کہا کہ تعلیم دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کا مو ¿ثر ذریعہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ علم، تحقیق اور جدت کے شعبوں میں مشترکہ کاوشیں پاکستان اور برطانیہ کے درمیان دیرینہ دوستانہ روابط کو مزید مستحکم کریں گی۔قائم مقام چیئرمین سینیٹ نے طلبہ پر زور دیا کہ وہ دستیاب مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھائیں، عالمی سطح پر سوچیں، اپنی صلاحیتوں کو نکھاریں اور جدید ٹیکنالوجی و جدت کو اپناتے ہوئے ملک و قوم کی ترقی میں اپنا کردار ادا کریں۔انہوں نے شراکت داری کو عملی شکل دینے والے تمام افراد اور اداروں کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے یونیورسٹی آف لاہور اور یونیورسٹی آف پلائی ماو ¿تھ کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا اور امید ظاہر کی کہ یہ تعاون دونوں ممالک کے طلبہ اور تعلیمی شعبے کے لیے ایک کامیاب اور روشن مستقبل کی بنیاد ثابت ہوگا۔